مرکز اسلامی جهانی تبلیغ و إرشادسایٹ کے جدید ترین مطالبhttp://www.alawy.net/25رجب المرجب(1442ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پرامام موسیٰ کاظم (ع) کوجس آخری قید خانے میں قید کیا گيا اس کا زندان باں انتہائي سنگدل تھا جس کا نام سنہری بن شاہک تھا ۔ اس زندان میں امام پر بہت زیادہ ظلم و ستم ڈھایا گيا اور بالآخر ہاروں رشید کے حکم پر ایک سازش کے ذریعہ امام کو زہر دے دیا گیا اور تین دن تک سخت رنج و تعب برداشت کرنے کے بعد 55 سال کی عمر میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے اور آپ کی قبر مبارک کاظمین میں امام جواد علیہ السلام کے برابر میں ہے۔http://www.alawy.net/urdu/news/1586/13رجب المرجب(1442ھ)ولادت حضرت امام علی علیہ السلام کےموقع پرامیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام مکہ میں مسجد الحرام کے اندر جمعہ کے دن13 رجب کو متولد ہوئے ۔آپ ؑ کی ولادت کے وقت عام الفیل (وہ سال جس میں ابرہہ نے ہاتھیوں کے ذریعہ خانہ کعبہ پر حملہ کیا تھا)کے واقعہ کو تیس سال کا عرصہ گذر چکا تھا۔ آپ ؑ کے علاوہ نہ کوئی اورخانہ کعبہ میں متولدہوا ہے نہ ہی کوئی اسکے بعد اس منزلت اور عظمت کو حاصل کر سکے گا۔http://www.alawy.net/urdu/news/1577/10 رجب (1442ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پرحضرت امام محمد تقی علیہ السلام کا نام "محمد" ، کنیت "ابو جعفر" اور لقب "جواد" تھا۔ آپ دس رجب المرجب 195 ہجری قمری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حضرت امام علی رضا علیہ السلام اور والدہ گرامی "سبیکہ" خاتون تھیں جو حضرت ماریہ قبطیہ، پیغمبر اکرم ﷺ کی زوجہ مکرمہ کی نسل سے تھیں۔ شیخ مفیدعلیہ الرحمہ فرماتے ہیں: چونکہ حضرت امام علی رضا علیہ ا لسلام کے کوئی اولاد آپ کی ولادت سے قبل نہ تھی اس لئے لوگ طعنہ دیا کرتے تھے کہ شیعوں کے امام منقطع النسل ہیں یہ سن کر حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اولاد کاہونا خداکی عنایت سے متعلق ہے اس نے مجھے صاحب اولاد کیاہے اور عنقریب میرے یہاں مسندامامت کاوارث پیداہوگا چنانچہ امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔http://www.alawy.net/urdu/news/1574/20جمادی الثانی(1442ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پرحضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے مدینہ کی خواتین سےملاقات کے دوران اپنی زندگی کی تین محبوب چیزوں کا تعارف کروایا ہے اورفرماتی ہیں: کہ میں تمہاری دنیا میں سے تین چیزوں کو پسند کرتی ہوں اوردیگرتمام چیزوں سے زیادہ انہیں پسند کرتی ہوں۔ فرماتی ہیں کہ میں تمہاری دنیا میں سے کتاب الہی کی تلاوت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کی زیارت اوراللہ کی راہ میں خرچ کرنےکو پسند کرتی ہوں۔http://www.alawy.net/urdu/news/1570/3جمادی الثانی(1442ھ)شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پررت فاطمہ (س) نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا کی وفات کے 3مہینہ بعد تین جمادی الثانی سن ۱۱ ہجری قمری میں شہادت پائی . آپ کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا .حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا . صرف بنی ہاشم اور سلمان فارسی (رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کردیا . آپ کے دفن کی اطلاع بھی عام طور پر سب لوگوں کو نہیں ہوئی، جس کی بنا پر یہ اختلاف رہ گیا کہ اپ جنت البقیع میں دفن ہیں یا اپنے ہی مکان میں جو بعد میں مسجدرسول خدا کا حصہ بن گیا۔ جنت البقیع میں جو آپ کا روضہ تھا وہ بھی باقی نہیں رہا۔ اس مبارک روضہ کو 8شوال سن ۱۳۴۴ھجری قمری میں آل سعود نے دوسرے مقابر اہلیبیت علیہ السّلام کے ساتھ شہید کرادیا۔http://www.alawy.net/urdu/news/1566/5جمادی الاول(1442ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے موقع پرحضرت زینب سلام اللہ علیہا امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی بیٹی یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نواسی تھیں۔ 5 جمادی الاول 6ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئیں۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو حضرت محمد(ص)کی زیارت کرنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔ جب وہ سات سال کی تھیں تو ان کے نانا حضرت محمد(ص)کا انتقال ہو گیا، اس کے تقریباً تین ماہ بعد حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی انتقال فرما گئیں ۔http://www.alawy.net/urdu/news/1563/10ربیع الثانی (1442ھ) وفات حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے موقع پرحضرت معصومہ سنہ 200 ہجری میں اپنے بھائی امام رضاؑ سے ملنے مدینہ سے ایران کی جانب نکلیں اس وقت امام رضا کا مامون عباسی کی ولایت عہدی کا دور تھا اور امامؑ خراسان میں تھے؛ لیکن آپ راستے میں بیماری کی وجہ سے وفات پاگیں۔ سید جعفر مرتضی عاملی کا کہنا ہے کہ حضرت معصومہؑ کو ساوہ میں زہر دیا گیا اور اسی وجہ سے شہید ہوگئیں۔ حضرت معصومہ کے قم جانے کے بارے میں دو قول ہیں: ایک قول کے مطابق جب آپ ساوہ میں بیمار ہوگئیں تو آپ نے اپنے ہمراہ افراد سے قم چلنے کے لئے کہا ۔ دوسرے قول جسے تاریخ قم کے مصنف زیادہ صحیح سمجھتے ہیں اس کے مطابق خود قم کے لوگوں نے آپ سے قم آنے کی درخواست کی قم میں حضرت فاطمہ معصومہ موسی بن خزرج اشعری نامی شخص کے گھر رہیں اور 17 دن بعد وفات پاگئیں۔ http://www.alawy.net/urdu/news/1561/8ربیع الثانی (1442ھ)ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پرامام حسن عسکری علیہ السلام نے سنہ 232ق میں 10ربیع الثانی یا اسی مہینے کے آٹھویں یا چوتھے دن کو مدینہ میں آنکھ کھولی اور 28 سال تک زندگی فرمائی۔ کچھ روایات کے مطابق آپکی ولادت سنہ 213ق میں ہوئی۔ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی عمرجب چارماہ کے قریب ہوئی توآپ کے والدامام علی نقی علیہ السلام نے اپنے بعدکے لیے منصب امامت کی وصیت کی اورفرمایاکہ میرے بعدیہی میرے جانشین ہوں گے اوراس پربہت سے لوگوں کوگواہ قرار دیا علامہ ابن حجرمکی کاکہناہے کہ امام حسن عسکری ،امام علی نقی کی اولادمیں سب سے زیادہ اجل وارفع اعلی وافضل تھے۔http://www.alawy.net/urdu/news/1558/17 ربیع الاول (1442ھ)ولادت با سعادت صادقین علیہما السلام کے موقع پرعلمائے شیعہ کے نزدیک مشہور یہ ہے کہ جناب رسول خدا (ص) کی ولادت باسعادت عام الفیل میں انوشیروان عادل کے حکومت کے ایام میں 17 ربیع الاول کو مکه معظمہ میں اپنے ہی گھر میں جمعہ کے دن طلوع فجر کے وقت ہوئی ۔ اور اسی دن ۸۳ھ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت بھی ہوئی لہٰذا اس دن کی شرافت میں اس کی وجہ سے مزید اضافہ ہوا ۔ http://www.alawy.net/urdu/news/1543/8ربیع الاول(1442ھ)شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پرمشہور قول کے مطابق امام عسکریؑ ربیع الاول سنہ۲۶۰ ھ کے شروع میں معتمد عباسی کے ہاتھوں 28 سال کی عمر میں مسموم ہوئے اور اسی مہینے کی 8 تاریخ کو 28 سال کی عمر میں( سرّ من رأی (سامرا میں جام شہادت نوش کرگئے۔http://www.alawy.net/urdu/news/1542/