مرکز اسلامی جهانی تبلیغ و إرشادسایٹ کے جدید ترین مطالبhttp://www.alawy.net/25رجب (1441ھ) شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کے موقع پرسب سے آخر میں امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام سندی بن شاہک کے قید خانے میں رکھے گئے یہ شخص بہت ہی بے رحم اور سخت دل تھا- آخر اسی قید میں حضرت کوانگور میں زہر دیا گیا- 25رجب 183ھ میں 55 سال کی عمر میں حضرت کی شہادت ہوئی۔ شہادت کےبعد آپ کے جسد مبارک کے ساتھ بھی کوئی اعزاز کی صورت اختیار نہیں کی گئی بلکہ حیرتناک طریقے پر توہین آمیز الفاظ کے ساتھ اعلان کرتے ہوئے آپ کی لاش کو قبرستان کی طرف روانہ کیا گیا- مگر اب ذرا عوام میں احساس پیدا ہو گیا تھا اس لئے کچھ اشخاص نے امام کے جنازے کو لے لیا اور پھر عزت و احترام کے ساتھ مشایعت کر کے بغداد سے باہر اس مقام پر جواب کاظمین کے نام سے مشہور ہے، دفن کیا۔http://www.alawy.net/urdu/news/1485/15رجب (1441ھ)وفات حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کےموقع پرتاریخی شواہد کے مطابق حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا ۱۵ رجب سن ۶۳ ہجری کو دنیا سے رخصت ہوئی ہیں۔ اور آپ کے مدفن کے بارے میں احتمال قوی کے مطابق آپ کی قبر شام میں واقع ہے۔http://www.alawy.net/urdu/news/1483/13رجب (1441ھ) ولادت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پرحضرت على علیہ السلام 13 رجب بروز جمعہ ' عام الفيل كے تيسويں سال ميں ( بعثت سے دس سال قبل) خانہ كعبہ ميں پیدا ہوئے۔ خانہ کعبہ ایک قدیم ترین عبادت گاہ ہے اس کی بنیاد حضرت آدم علیہ السلام نے ڈالی تھی اور اس کی دیواریں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بلند کیں۔ اگر چہ یہ گھر بالکل سادہ ہے نقش و نگار اور زینت و آرائش سے خالی ہے فقط چونے مٹی اور پتھروں کی ایک سیدھی سادی عمارت ہے ، مگر اس کا ایک ایک پتھر برکت و سعادت کا سرچشمہ اور عزت و حرمت کا مرکز و محور ہے ۔ یہ وہی محترم و پاک و پاکیزہ اور با عظمت گھر ہے جس میں مولائے متقیان حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام پیدا ہوئے۔یہ منزلت و شرف فقط حضرت علی علیہ السلام کو حاصل ہے” ۔" لم یولد قبلہ و لا بعدہ مولود فی بیت الحرام"نہ کوئی حضرت علی علیہ السلام سے پہلےپیدا ہوا اور نہ آپ ؑ کے بعد کوئی خانہ کعبہ میں پیدا ہوگا۔ http://www.alawy.net/urdu/news/1482/10 رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر شمع ہدایت کے نویں چراغ جواد الائمہ حضرت امام محمد تقی علیہ السّلام کی 10 رجب سنہ 195 ھ ق کومدینے میں ولادت باسعادت ہوئی امام علیہ السّلام کو بہت کم ہی اطمینان اور سکون کے لمحات میں باپ کی محبت , شفقت اور تربیت کے سائے میں زندگی گزارنے کاموقع مل سکا ۔آپ جب پانچ سال کے تھےتو اس وقت حضرت امام رضا علیہ السّلام مدینہ سے خراسان کی طرف سفر کرنے پر مجبور ہوئے پھر دوبارہ والد گرامی سے ملاقات کا موقع میسر نہ ہوا ۔ http://www.alawy.net/urdu/news/1480/یکم رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پرشمع ہدایت کے پانچویں چراغ ، حضرت امام محمد باقر علیہ السلام یکم رجب المرجب ۵۷ ھ یوم جمعہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اسم گرامی ”لوح محفوظ“کےمطابق اورسرورکائنات کی تعیین کے موافق ”محمد“تھا۔ آپ کی کنیت ”ابوجعفر“ تھی، اورآپ کے القاب کثیرتھے، جن میں باقر،شاکر،ہادی زیادہ مشہورہیں۔ آپ ؑ کی والدہ دوسرے امام حضرت حسن بن علی علیہ السلام کی بیٹی تھیں اور والد علی بن حسین بن علی علیہم السلام تھے ،اس اعتبار سے آپ ؑ پہلے شخص ہیں جو ماں اور باپ کی طرف سے علوی ؑ فاطمی ؑ ہیں۔ http://www.alawy.net/urdu/news/1479/20جمادی الثانی (1441ھ)ولادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پرکسی بھی معاشرے کی ترقی ، انسان کی سعادت کا دارمدار سب سے پہلے اس کےگھر کےافراد کاکردار ہے۔ اس گھرمیں اہم بنیادی کردار خواتین کا کردار ہے پس ایک عورت کیلئے ضروری ہے ،کہ وہ عملی طور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکے ایثارو قربانی، یادخدا ، عفت وپاکدامنی ، جود و سخا ، عبادت دعا اور قرآن سے انس ومحبت جیسے اعلیٰ الٰہی اقدار کو اپناتے ہوئےیہ ثابت کردیں کہ ایک عورت کا کردارکسی بھی معاشرےکی کامیابی میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے ۔ http://www.alawy.net/urdu/news/1477/3جمادی الثانی (1441ھ)شہادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر سیدہ عالم نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا کی وفات کے 3 مہینے بعد تیسری جمادی الثانی سن ۱۱ ہجری قمری میں وفات پائی . آپ کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا .حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا . بعض مخلص اور و فادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا . آپ کے دفن کی اطلاع بھی عام طور پر سب لوگوں کو نہیں ہوئی، جس کی بنا پر یہ اختلاف رہ گیا کہ آپ جنت البقیع میں دفن ہیں یا اپنے ہی مکان میں جو بعد میں مسجد رسول کا جزو بن گیا۔ http://www.alawy.net/urdu/news/1474/5جمادی الاول (1441ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کےموقع پرحضرت زینب(س) کی ولادت کی خبر پیامبر اسلام (ص) کو دی گئی تو آپ(ص) نے فرمایا "نومولود کو میرے پاس لاو" جب حضرت زینب(س) کو آپ حضرت(ص) کے پاس لایا گیا تو آپ(ص) نے فرمایا "یہاں موجود اور غیرموجود سب کو وصیت اور تاکید کرتا ہوں کہ اس بچی کا بہت زیادہ احترام کریں بے شک یہ بچی شبیہ حضرت خدیجہ(س) ہے۔ زینب(س) وہ شخصیت ہیں جن کا نام رکھنے کے موقع پر پیامبر اسلام(ص) نے تاخیر کی تاکہ آپ کا نام خدا کی طرف سے عطا ہو جبرائیل پیامبر گرامی کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ خداوند کا درود و سلام ہو آپ پر اس بچی کا نام زینب(س) رکھ دیں چونکہ یہ نام لوح محفوظ پر لکھا ہوا ہے۔http://www.alawy.net/urdu/news/1466/10ربیع الثانی(1441ھ)حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پرحضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا اپنے بھائی امام رضا علیہ السلام کی ہجرت کےایک سال بعد اپنے بھائی سے ملاقات کے شوق میں اور سیرت حضرت زینب کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اپنے کچھ بھائیوں اور بھتیجوں کے ساتھ خراسان کی طرف چل پڑیں۔ اس سفر کے دوران ہر مقام پر اپنے بھائی کی مظلومیت کا پیغام دنیا والوں تک پہنچاتی ہوئی ایران کے ایک شہر ساوہ میں پہنچیں۔http://www.alawy.net/urdu/news/1460/8ربیع الثانی (1441ھ) ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام آٹھ ربیع الثانی 232 ہجری بروز جمعہ مدینہ میں پیدا ہوئے آپ آسمان امامت و ولایت اور خاندان وحی و نبوت کے گیارہويں چشم و چراغ ہیں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا مقابلہ بھی اپنے اجداد طاہرین کی طرح اس وقت کے ظالم و جابر و غاصب وعیار و مکار عباسی خلفا سے تھا آپ کی مثال اس دور میں ایسی ہی تھی جس طرح ظلم و استبداد کی سیاہ آندھیوں میں ایک روشن چراغ کی ہوتی ہے ۔ http://www.alawy.net/urdu/news/1459/