مرکز اسلامی جهانی تبلیغ و إرشادسایٹ کے جدید ترین مطالبhttp://www.alawy.net/15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر آپ ۱۵/ رمضان ۳ ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں پیداہوئے ۔ مورخین کا کہنا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے گھر میں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی خوشی تھی۔ آپ کی ولادت نے رسول خداﷺ کے دامن سے مقطوع النسل ہونے کا دھبہ صاف کردیا اور دنیا کے سامنے سورہ کوثرکی ایک عملی اور بنیادی تفسیر پیش کردی۔ آپ کی کنیت " ابو محمد " تھی اور آپ کے القاب بہت کثیرہیں: جن میں طیب،تقی، سبط اور مجتبیٰ زیادہ مشہور ہے۔http://www.alawy.net/urdu/news/1346/ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس ماہ رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس حسینیہ نجف الاشرف – قم المقدسہ 1 سے 15 رمضان المبارک 1440 ہجری حسینیہ امامین کاظمین – قم المقدسہ 15 سے 30 رمضان المبارک 1440 ہجری 11:30 بجےرات http://www.alawy.net/urdu/news/1344/علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقادعالم ربانی حضرت آیت الله مرحوم سید علی علوي (رحمۃ الله علیہ )کی 37ویں"سالگرہ "کے موقع پر علم اور عالم کی یا د کو زندہ رکھنے کیلئے "تین روزہ مجالس" حسینی کاانعقاد کیا گیا ہے۔ http://www.alawy.net/urdu/news/1339/15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر بارہویں امام معصوم حضرت حجت بن الحسن المہد ی ، امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) نیمہ شعبان، ٢٥٥ ہجری ، شہر سامراء میں متولد ہوئے۔ آپ پیغمبر اکرمﷺ کے ہم نام (م ح م د) ہیں اور آپ کی کنیت بھی حضرت (ابوالقاسم) ہے ۔ لیکن معصوم نے امام زمانہ کا اصلی نام لینے سے منع کیا ہے ۔ آپ کے والد کا نام امام حسن عسکری علیہ السلام اور والدہ کا نام نرجس ہے نرجس خاتون کو ریحانہ ، سوسن اور صقیل بھی کہا جاتا ہے آپ کی عظمت و معنویت اس قدر تھی کہ امام ہادی علیہ السلام کی بہن حکیمہ خاتون جوکہ خاندان امامت کی باعظمت خاتون ہیں ، آپ کو اپنے خاندان کی سردار اور اپنے آپ کو ان کی خدمت گزار کہتی تھیں۔ http://www.alawy.net/urdu/news/1332/11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر مشہور قول کے مطابق آپ امام حسین علیہ السلام کے بڑے بیٹے ہیں جو کربلا میں شہید ہو گئے۔ آپ کی والدہ گرامی لیلی بنت ابی مرّہ بن عروۃ بن مسعود ثقفی ہیں۔ آپ کی کنیت ابو الحسن ہے اور محدث قمی کے بقول بعض روایات اور زیارت ناموں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ شادی شدہ تھے اور کچھ اولاد بھی رکھتے تھے۔ آپ عالم ، پرہیزکار، رشید اور شجاع جوان تھے اور انسانی کمالات اور اخلاقی صفات کے عظیم درجہ پر فائز تھے۔ آپ کے زیارت نامہ میں وارد ہوا ہے:سلام ہو آپ پر اے صادق و پرہیزگار، اے پاک و پاکیزہ انسان، اے اللہ کے مقرب دوست،کتنا عظیم ہے آپ کا مقام، اور کتنی عظمت سے آپ اس کی بارگاہ میں لوٹ آئے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا نے راہ حق میں آپ کی مجاہدت کی قدر دانی کی اور اجر و پاداش میں اضافہ کیا اور آپ کو بلند مقام عنایت فرمایا۔http://www.alawy.net/urdu/news/1329/5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر حضرت امام زين العابدين عليه السلام السلام کی تاریخ ولادت کے بارے میں مورخین اور سیرہ کی کتاب لکھنے والوں میں اختلاف ہے، بعض نے 5 شعبان اور بعض نے 7شعبان اور بعض نے9 شعبان اور بعض نے15 جمادی الاول ولادت کی تاریخ بیان کیا ہے اور دن کے ساتھ ساتھ سال کے بارے میں بھی اختلاف نظر ہے، بعض نے سن 38 ھ ، بعض نے سن 36 ھ ، اور بعض نے 37ھ ، بیان کیا ہے۔ چوتھے امام زین العابدین علیہ السلام کا نام علی علیہ السلام ہے۔ آپ حسین بن علی بن ابیطالب علیہ السلام کے فرزند ارجمند ہیں، آپ کے القاب میں سجاد اور زین العابدین بہت مشہور ہیں۔http://www.alawy.net/urdu/news/1322/4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر حضرت عباس بن امیرالمومنین علی ابن ابی طالب ؑ 4 شعبان سن 26 ہجری کو عثمان بن عفان کے دور خلافت میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ۔آپ امام علی علیہ السلام اور ام البنین(س) کے فرزند ہیں اور "ابوالفضل" اور "علمدار" کے نام سے مشہور ہیں۔ حضرت عباس کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثار و وفاداری“ ہے جو ان کے روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے۔ وہ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے عاشق و گرویدہ تھے اورسخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہوگیا ہے اور اسی لئے ان کا ایک لقب شہنشاہِ وفا ہے۔http://www.alawy.net/urdu/news/1320/3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر حضرت امام حسن علیہ السلام کی ولادت کوتھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ خصوصی مدت حمل صرف چھ ماہ گزرکرنورنظررسول امام حسین بتاریخ ۳/شعبان ۴ ہجری بمقام مدینہ منورہ بطن مادرسے آغوش مادرمیں آ گئے۔ ام الفضل کا بیان ہے کہ میں حسب الحکم ان کی خدمت کرتی رہی، ایک دن میں بچے کولے کر آنحضرت کی خدمت میں حاضرہوئی آپ نے آغوش محبت میں لے کرپیارکیا اور آپ رونے لگے میں نے سبب دریافت کیا توفرمایا کہ ابھی ابھی جبرئیل میرے پاس آئے تھے وہ بتلاگئے ہیں کہ یہ بچہ امت کے ہاتھوں نہایت ظلم وستم کے ساتھ شہید ہوگا اور اے ام الفضل وہ مجھے اس کی قتل گاہ کی سرخ مٹی بھی دے گئے ہیں۔http://www.alawy.net/urdu/news/1237/27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر ستائیس رجب سنہ چالیس عام الفیل کو پیغمبراکرم ﷺغار حرامیں اپنے رب سے دعاؤمناجات میں مشغول تھے کہ یکایک فرشتۂ وحی حضرت جبریل نازل ہوئے اور اپنے ساتھ خوشخبری رسالت لائےاورسورۂ علق کے ان آیات کی تلاوت فرمائی۔" "اس خداکا نام لیکر پڑھو جس نے پیداکیاہے۔ اس نے انسان کو جمے ہوئےخون سے پیداکیاہے۔ پڑھو اور تمھارا پروردگار بہت کریم ہے،جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی ہے اورانسان کو وہ سب بتادیاہے جو اسے نہیں معلوم تھا"۔ http://www.alawy.net/urdu/news/1236/25رجب المرجب(1440ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام سندی بن شاہک کے قید خانے میں رکھے گئے یہ شخص بہت ہی بے رحم اور سخت دل تھا- آخر اسی قید میں حضرت کوانگور میں زہر دیا گیا- 25رجب 183ھ میں 55 سال کی عمر میں حضرت کی شہادت ہوئی۔ شہادت کےبعد آپ کے جسد مبارک کے ساتھ بھی کوئی اعزاز کی صورت اختیار نہیں کی گئی بلکہ حیرتناک طریقے پر توہین آمیز الفاظ کے ساتھ اعلان کرتے ہوئے آپ کی لاش کو قبرستان کی طرف روانہ کیا گیا- مگر اب ذرا عوام میں احساس پیدا ہو گیا تھا اس لئے کچھ اشخاص نے امام کے جنازے کو لے لیا اور پھر عزت و احترام کے ساتھ مشایعت کر کے بغداد سے باہر اس مقام پر جواب کاظمین کے نام سے مشہور ہے، دفن کیا۔http://www.alawy.net/urdu/news/1234/