مرکز اسلامی جهانی تبلیغ و إرشادسایٹ کے جدید ترین مطالبhttp://www.alawy.net/17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر حضرت رسول خدا (ص) کی ولادت باسعادت عام الفیل میں انوشیروان عادل کے حکومت کے ایام میں 17 ربیع الاول کو مکه معظمہ میں اپنے ہی گھر میں جمعہ کے دن طلوع فجر کے وقت ہوئی ۔ اور اسی دن ۸۳ھ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت بھی ہوئی لہٰذا اس کی وجہ سے اس دن کی فضیلت میں مزید اضافہ ہوا۔http://www.alawy.net/urdu/news/1456/سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز ولا دت باسعادت پیغمبر اکرم ﷺ اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی مناسبت سے جامعة آل البيت عليهم السلام میں پانچ روزہ " انٹرنیشنل بک اسٹال "کاباقائدہ افتتاح آج بروزہفتہ 11 ربیع الاول (1441ھ)سے کیا گیاہے۔http://www.alawy.net/urdu/news/1453/8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پرآٹھ ربیع الاول سنہ 260 ہجری کی صبح وعدہ دیدار آن پہنچا، دکھ اور مشقت کے سال اختتام پذیر ہوئے۔ قلعہ بندیوں، نظر بندیاں اور قید و بند کے ایام ختم ہوئے۔ نا قدریاں، بےحرمتیاں اور جبر و تشدد کے سلسلے اختتام پذیر ہوئے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام ایک طرف سے قربِ وصالِ معبود سے شادماں اور نبی اکرم ﷺ کی امت اور آپ ؐ کی دو امانتوں (قرآن و عترت) کے انجام سے فکرمند، غریب الوطنی میں دشمن کے زہر جفا کی وجہ سے بستر شہادت پر درد کی شدت سے کروٹیں بدل رہے ہیں لیکن معبود سے ہم کلام ہونے کو پھر بھی نہ بھولے اور نماز تہجد ابن الرسول (ص) لیٹ کر ادا کی وہ بھی شب جمعہ کو کہ جو رحمت رب العالمین کی شب ہے؛ وہی شب جو آپؑ کی پرواز کی شب ہے۔ نماز میں بہت روئے تھے شوق وصال کے اشک۔ http://www.alawy.net/urdu/news/1445/30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر ایک روزمامون نے حضرت امام رضاعلیہ السلام کواپنے گلے سے لگایااورپاس بیٹھاکران کی خدمت میں بہترین انگوروں کاایک طبق رکھا اوراس میں سے ایک خوشااٹھاکرآپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہایابن رسول اللہ یہ انگورنہایت ہی عمدہ ہیں تناول فرمائیے آپ نے یہ کہتے ہوئے انکارفرمایاکہ جنت کے انگوراس سے بہتر ہیں اس نے شدید اصرارکیااورآپ نے اس میں سے تین دانے کھالیے یہ انگورکے دانے زہرآلودتھے انگورکھانے کے بعد آپ اٹھ کھڑے ہوئے ،مامون نے پوچھا آپ کہاں جارہے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا جہاں تونے بھیجاہے وہاں جارہا ہوں قیام گاہ پر پہنچنے کے بعد آپ تین دن تک تڑپتے رہے بالآخرانتقال فرما گئے۔ http://www.alawy.net/urdu/news/1439/۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر ۱۱ہجری ۲۸ صفر سوموار کے دن رسول اکرم ﷺکی وفات ہوئی ،جبکہ آپ کی عمر شریف تریسٹھ ۶۳ سال تھی ۔چالیس سال کی عمر میں آپ تبلیغ رسالت کیلئے مبعوث ہوئے ،اس کے بعد تیرہ سال تک مکہ معظمہ میں لوگوں کو خدا پرستی کی دعوت دیتے رہے ترپن برس کی عمر میں آپ نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پھر ان کے دس سال بعد آپ نے اس دنیاء فانی سے رحلت فرمائی ۔ http://www.alawy.net/urdu/news/1437/ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد شہادت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی مناسبت سے سالانہ تین روزہ مجالس مرکزی انجمن ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے منعقد کیا گیا ہے ۔ جس میں آیت اللہ سید عادل علوی (مدظلہ) خطاب فرمائیں گے۔ http://www.alawy.net/urdu/news/1430/25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر امام علیہ السلام کے روحانی اقتدارکی وجہ سے بادشاہ وقت ولید بن عبدالملک نے آپ کو زہر دیدیا، اور آپ بتاریخ ۲۵/ محرم الحرام ۹۵ ھ مطابق ۷۱۴ کو درجہ شہادت پرفائز ہو گئے۔ امام محمد باقرعلیہ السلام نے نمازجنازہ پڑھائی اورآپ مدینہ کے جنت البقیع میں دفن کردئیے گئے علامہ شبلنجی، علامہ ابن حجر، علامہ ابن صباغ مالکی، علامہ سبط ابن جوزی تحریرفرماتے ہیں کہ ”وان الذی سمه الولیدبن عبدالملک“ جس نے آپ کو زہر دے کر شہید کیا،وہ ولید بن عبدالملک خلیفہ وقت ہے ۔http://www.alawy.net/urdu/news/1427/ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیانبیشک جس کےدل میں تقویٰ الہی ہو وہ شعائر الٰہی کا احترام اور تعظیم کرتا ہے۔ اسی طرح شعائر الٰہی میں سے عزیز اور ولی خدا سید الشہدا ؑامام حسین ؑ کے شعائرکوبھی محترم سمجھتا ہے ۔ وہ حسین ؑ جس کا ذکر عرش پرلکھا گیا ہے ۔ (الحسين مصباح هدىً وسفينة نجاة). بیشک امام حسینؑ ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہیں ۔ (اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّنَہَرٍ فِيْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْكٍ مُّقْتَدِرٍ)بیشک صاحبان تقویٰ باغات اور نہروں کے درمیان ہوں گے اس پاکیزہ مقام پر جو صاحبِ اقتدار بادشاہ کی بارگاہ میں ہے۔http://www.alawy.net/urdu/news/1425/ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیانامام حسین ؑ اپنے والد گرامی کی طرح فرماتے ہیں : (دو قسم کے لوگوں نےمیری کمرکو توڑ دیاہے ایک وہ عالم جو گناہ کرنے سے پرواہ نہیں کرتا اور اپنے علم پر عمل بھی نہیں کرتا ۔ دوسرا وہ جاہل جو اپنے جہل پرعمل کرتے ہوئے عبادت انجام دیتا ہے اور جہالت کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتا ہے۔ جوشخص مجالس اور عزاءحسینی کو جہالت اور اپنی خواہشات کے مطابق تشکیل دیتا ہےاس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے اپنی جہل کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے امام حسین علیہ السلام کے پشت مبارک کو روندھ ڈالاہے ، اور آپ ؑکے لا فانی انقلاب کی کمر توڑ دیا ہے ، اپنی جہل اور گمراہی کی وجہ سے امت مسلمہ اور بنی نوع بشرکے اصلاح کی بنیاد کو ختم کردیاہےبیشک امت مسلمہ لوگوں میں سے بہترین قوم ہے انہیں لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہے ، اور یہ کہ خدا نے سید المرسلین اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے ذریعے ختم نبوّت اور رسالت پرمہر ثبت کردی ہے پس خدا نے آپﷺ کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ دین لٰہی سب تمام ادیان عالم پر غالب آجائے اور عنقریب آل محمّد علیہم السلام میں سےخاتم الاوصیاءاور عصارۃ الانبیاءحضرت مہدی موعود ارواحنالہ الفداء ظہور کرے گا جو زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم اور جور سے بھر چکی ہوگی ۔http://www.alawy.net/urdu/news/1421/ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان اس میں کوئی شک نہیں ہےکہ ہم شیعہ امامیہ ،ائمہ معصومین علیہم السلام کے چاہنے والے اور ان کے دوست داروں میں سے ہیں اور ہم اپنے عقیدے اور عمل میں ان کے مذہب کے پیروکا رہیں بیشک جو دلائل اور برہان ہمارے پاس ہے اُن پر ہمارا ایمان اور اعتقاد ہے اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے حکم سے غیبت کبری ٰکے دوران ہم اپنے دینی اور فقہی اعمال کو صحیح انجام دینے کے لئے،چاہے عبادات میں سے ہو یا معاملات میں سے ،مجتہدین عظام اور جامع الشرائط فقیہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔http://www.alawy.net/urdu/news/1419/